Wednesday, 15 April 2026 +1 234 567 890
بریکنگ نیوز
ملک میں ہولی کے ساتھ ہی تیزی سے بدل گیا موسم کا مزاج، کہیں 33 تو کہیں 35 ڈگری پہنچ گیا درجہ حرارت ایران پر امریکی-اسرائیلی حملہ: اکھلیش یادو کا آیت اللہ خامنہ ای اور 165 طالبات کی شہادت پر اظہارِ افسوس راجیہ سبھا جانا میری دیرینہ خواہش تھی، نئی حکومت کو میرا تعاون حاصل رہے گا: نتیش کمار مغربی بنگال کے گورنر آنند بوس نے دیا استعفیٰ، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کا اظہارِ حیرت اکھلیش نے نتیش کمار کے فیصلہ کو بہار کی تاریخ کا سب سے بڑا ’اغوا‘ قرار دیا، این ڈی اے کی ساتھی پارٹیوں کو کیا آگاہ پی ایم مودی کی مجرمانہ خاموشی پورے ملک اور اس کی وراثت پر بدنما داغ ہے: کانگریس ’کوئی قومیت نہیں، صرف انسانیت‘، ایران-اسرائیل جنگ کے درمیان دبئی میں پھنسے لوگوں کے لیے مدد کو آگے آئے سونو سود لوک سبھا اسپیکر کو ہٹانے کا نوٹس: بحث کے دوران ایوان میں موجود رہیں گے اوم برلا، دفاع کا اختیار ہوگا حاصل ’مودی جی سیاسی و اخلاقی دونوں اعتبار سے سرنڈر کر چکے ہیں‘، موجودہ حالات پر کھڑگے کا اظہارِ فکر ’حکومت ہند اتنی ڈرپوک اور خوفزدہ...‘، میلان ایکسرسائز میں شریک ایرانی جنگی جہاز پر امریکی حملہ سے کانگریس حیران

’مودی جی سیاسی و اخلاقی دونوں اعتبار سے سرنڈر کر چکے ہیں‘، موجودہ حالات پر کھڑگے کا اظہارِ فکر

’مودی جی سیاسی و اخلاقی دونوں اعتبار سے سرنڈر کر چکے ہیں‘، موجودہ حالات پر کھڑگے کا اظہارِ فکر

اسرائیل و امریکہ کے ذریعہ ایران پر حملہ کے بعد خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی نے ہندوستانی عوام کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ خلیجی ممالک میں موجود کچھ ہندوستانیوں کی موت سے متعلق خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس پر کانگریس نے فکر کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اس تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کر کچھ اہم حقائق سامنے رکھے ہیں اور وزیر اعظم نریندر مودی کے رویہ پر مایوسی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے موجودہ عالمی صورت حال میں حکومت ہند کی خاموشی کو تشویش ناک بتایا ہے۔ خاص طور سے ہندوستان کے مہمان ایرانی جہاز پر امریکی حملہ کے بعد پی ایم مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا ہے۔

کانگریس صدر کھڑگے نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے اسٹریٹجک اور قومی مفادات سے لاپرواہی سب کے سامنے واضح ہے۔‘‘ یہ لکھنے کے بعد کھڑگے نے 3 حقائق کو سامنے رکھ کر وزیر اعظم نریندر مودی کے رویہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پہلا معاملہ ایرانی جہاز پر امریکی حملہ سے متعلق ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ایک ایرانی جہاز، جو ہندوستان کا مہمان تھا، ہمارے زیر اہتمام منعقدہ ’انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2026‘ میں شرکت کے بعد غیر مسلح حالت میں واپس جا رہا تھا، اس پر بحر ہند کے خطہ میں ٹارپیڈو سے حملہ کیا گیا۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’اس معاملہ میں حکومت ہند کی جانب سے نہ کسی تشویش کا اظہار کیا گیا اور نہ تعزیت کا۔ وزیر اعظم مودی خاموش ہیں۔‘‘ اس رویہ پر تنقید کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’جب آپ اپنے ہی آس پاس ہونے والے واقعات پر رد عمل ظاہر نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں ’مہاساگر‘ کے نظریے اور بحر ہند کے خطہ میں ہندوستان کے ’نیٹ سیکورٹی پرووائیڈر‘ ہونے کے دعووں پر لیکچر کیوں دیتے ہیں؟‘‘

کھڑگے نے دوسری بات آبنائے ہرمز میں پھنسے ہندوستانی جہاز کی رکھی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’خلیج ہرمز میں 38 ہندوستانی پرچم بردار تجارتی جہاز اور تقریباً 1100 ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔ خبروں کے مطابق 2 ہندوستانی ملاح، جن میں کیپٹن آشیش کمار بھی شامل ہیں، ہلاک ہو چکے ہیں۔ آخر سمندری دفاع یا امدادی کارروائی کیوں شروع نہیں کی گئی؟‘‘ اس معاملہ میں کھڑگے نے پی ایم مودی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ ’’آپ کہتے ہیں کہ ملک کے پاس صرف 25 دن کا خام تیل اور تیل کے ذخائر باقی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ کے پیش نظر ہمارا توانائی ہنگامی منصوبہ کیا ہے؟ خاص طور پر اس پس منظر میں کہ حکومت ہند نے عملاً روسی تیل کی درآمد روکنے کے امریکی مطالبہ کو قبول کر لیا ہے؟ خلیجی ممالک کے ساتھ دیگر اہم اجناس کی تجارت کا کیا ہوگا؟‘‘

تیسرا معاملہ کانگریس صدر نے خلیجی ممالک میں کچھ ہندوستانیوں کے ہلاک ہونے یا لاپتہ ہونے سے متعلق خبروں سے متعلق اٹھایا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’ہندوستان کی وزارت خارجہ نے 3 مارچ 2026 کو جو بیان دیا ہے، اس کے مطابق کچھ ہندوستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں یا لاپتہ ہیں۔ جو وہاں پھنسے ہوئے ہیں، ان کی حفاظت کے لیے کیا اقدام کیے گئے ہیں۔‘‘ انھوں نے بتایا کہ ’’خلیجی خطہ کے ممالک میں ایک کروڑ ہندوستانی مقیم ہیں۔ میڈیکل طلبا مدد کے لیے بے بسی بھرے ویڈیو پیغامات جاری کر رہے ہیں۔ حکومت ہند ان کی سلامتی کو کیسے یقینی بنا رہی ہے؟ کیا متاثرہ علاقوں سے انخلا کا کوئی منصوبہ تیار ہے؟‘‘

مذکورہ بالا حالات کو پیش کرنے کے بعد ملکارجن کھڑگے نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’واضح طور پر مودی جی نے سیاسی و اخلاقی دونوں اعتبار سے سرنڈر کر دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’یہ رویہ ہندوستان کے بنیادی قومی مفادات کو مجروح کرتا ہے اور ہماری خارجہ پالیسی کو تباہ کرنے والا ہے۔‘‘ انھوں نے یاد دلایا کہ یہ وہ خارجہ پالیسی ہے جسے گزشتہ برسوں میں مختلف حکومتوں نے بڑی محنت اور احتیاط کے ساتھ تشکیل دیا اور آگے بڑھایا تھا۔

Comments (0)

Leave a Comment